ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل سرکاری اسپتال کے ایڈمنسٹریٹیو افیسرکے عہدے سے ڈاکٹر ستیش کااستعفیٰ

بھٹکل سرکاری اسپتال کے ایڈمنسٹریٹیو افیسرکے عہدے سے ڈاکٹر ستیش کااستعفیٰ

Thu, 06 Oct 2016 02:16:42    S.O. News Service

بھٹکل 5/اکتوبر(ایس او نیوز)سرکاری کاٹیج ہاسپٹل کے منتظم کے طور پر ذمہ داریاں انجام دینے والے ای این ٹی سرجن ڈاکٹر ستیش نے اسپتال منتظم کے اس عہدے سے اپنا استعفیٰ ضلع ہیلتھ افیسر کو روانہ کر دیا ہے۔ بھٹکل تعلقہ پنچایت کی میٹنگ میں جب یہ مسئلہ زیر بحث آیا تو گرماگرم بحث کے بعد طے پایا کہ اسپتال کی ہیتھ کمیٹی کے صدر رکن اسمبلی منکال وئیدیا کے علم میں لاکر اسے حل کرنے کا راستہ نکالا جائے۔

خبر ملی ہے کہ اسپتال میں روز بروز بڑھتے ہوئی عوامی شکایات اور اسپتال کے دیگر اہلکاروں کی طرف سے مناسب تعاون نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہوکر ڈاکٹر ستیش نے اپنا استعفیٰ دیا ہے۔ خیال رہے کہ جب جنرل سرجن ڈاکٹر منجو ناتھ شیٹی اسپتال کے منتظم تھے تب بھی وہاں کے اسٹاف کے ساتھ تال میل نہ ہونے اور آپسی رسہ کشی کا معاملہ ان کے خلاف اسٹاف کے احتجاجی مظاہرہ سے آگے بڑھ کر پولیس اسٹیشن تک پہنچ گیا تھا۔

اس بارے میں ڈاکٹر ستیش نے کہا کہ میں نے اپنا استعفیٰ نامہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر کو بھیجا ہے،یہ موضوع تعلقہ پنچایت میٹنگ میں کیوں زیر بحث آیا، اس کا مجھے پتہ نہیں ہے۔ میرے استعفیٰ کی ذاتی وجوہات ہیں جن کا خلاصہ نہیں کیا جاسکتا۔ جبکہ گمان یہ بھی ہے کہ اپنے استعفیٰ میں ڈاکٹر ستیش نے اسپتال کے اندر چلنے والے پیسوں کے ہیر پھیر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔جہاں تک ڈاکٹر ستیش کا تعلق ہے ان کے بارے میں عوام کے اندر اچھے تاثرات پائے جاتے ہیں۔ اور یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ اسپتال کا عملہ اچھے افسروں کے ساتھ بھی عدم تعاون کا رویہ اختیارکرتا ہے۔ آخر اس کے پیچھے راز کیا ہے، اس پر اعلیٰ افسروں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دستیاب معلومات کے مطابق بھٹکل کے اس سرکاری اسپتال کے لئے 88افراد پر مشتمل عملے کی ضرورت ہے۔ مگر یہاں فی الحال 29اسٹاف موجود ہے۔ دوسری طرف ایک دو اچھے ڈاکٹروں کی وجہ سے گزشتہ چار پانچ مہینوں سے اسپتال میں آنے والے مریضوں کی تعدا میں تین گنّا اضافہ ہوا ہے۔ایسے میں موجودہ عملے کے ساتھ اسپتال کا انتظام سنبھالنا ممکن نہیں ہورہاہے۔پتہ چلا ہے کہ یہاں پر صرف 7 نرسیں موجود ہیں اور کام کا بوجھ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ان سات میں سے 6 نرسوں نے دوسری جگہ تبادلے کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔

اس موقع پر عوامی حلقوں میںعوامی نمائندوں پر زور دیاجارہاہے کہ بھٹکل کاٹیج اسپتال میں پائی جانے والی بدانتظامی اور مسائل کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے جلد سے جلد اسے حل کریں ورنہ یہ اسپتال عوام کو فائدہ پہنچانے اور مزید ترقی کرنے کے بجائے پھر اسی پرانی روش پر چل پڑے گا اور عوام یہ کہتے رہ جائیں گے کہ وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے۔


Share: